Advertisement

(Potato) آلو

Advertisement
Advertisement
Advertisement

آلو کا تعلق ان سبزیوں کے گروہ سے ہے جن کی جڑیں بطور غذا استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ اکثر لوگ یہ خیال کر کے آ لوکا زیادہ استعمال کرتے ہیں کہ یہ سنتی ترکاری ہے۔ اس میں نشاستہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسے ضرور کھانا چاہئے جبکہ اکثر لوگوں کو بیل ہیں ہے کہ آلومیں وٹامن اور معدنی نمکیات کا اچھا خاصا ذخیرہ بھی ہوتا ہے۔

کچھ لوگ یہ سوچ کر نہیں کھاتے کہ آلو کھاتے رہنے سے وہ موٹے ہو جائیں گے۔ ان کا یہ خیال بھی درست نہیں ہے کیونکہ آلو میں چربی یا چکنائی نام کو بھی نہیں ہوتی البتہ ان میں لوہا اور یتیم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ یہ دونوں چیز میں حاصل کرنے کے لئے آلو کھایا جائے ۔ آلو میں پائی جانے والی پروٹین اس کی غذائی قدرو قیمت بڑھا دیتی ہے۔ آلو ہمیشہ چھلکوں سمیت استعمال کرنے چاہیں کیونکہ اس کے چھلکے میں بھی معدنی اجزاء کثرت سے پائے جاتے ہیں جو چھیل کر پکانے سے ضائع

چلے جاتے ہیں۔ آلو پانی کی بجائے بھاپ یا تنور کے اندر رکھ کر پانے چائیں۔ ابلے ہوۓ آلوؤں کا اوپر کا باریک چھلکا اگر اتار دیا جائے تو ان کی غذائیت میں چنداں فرق نہیں پڑتا۔ اگر آلو پانی میں ابالنا مقصود ہوں تو د ی میں پہلے ٹھنڈا پانی ڈال کر اس میں آلو ڈال دیں پھر تیز آگ پر کچھ دیر بلنے دیں۔ پھر آگ کم کر دیں تا کہ لو بھاپ میں جلتے رہیں ۔ پانی یا بھاپ پر پکانے سے بہتر طريقهم چنت کرنے کا ہے۔ آلو کردم چنت کرنے سے اس کے قیمتی غذائی اجزاء ضائع نہیں ہوتے۔

آلواس کی مقبول سبزی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ اس بات کا اس طرح اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ امریکہ جیسے بڑے ملک میں آلو کی پیداوار 32 کروڑمن سالانہ ہے یعنی ہر امریکی سال بھر میں 96سیر (تقریبا اڑھائی من) آلو

کھانا؟

آلو کا اصلی وطن جنوبی امریکہ ہے جہاں یہ نامعلوم زمانے سے کاشت کیا جارہا ہے۔ براعظم یورپ میں آلو کو سولہویں صدی میں متعارف کرایا گیا ہے۔ تقریبا سو سال تک یورپ میں اسے فرمت چیز خیال کیا جاتا رہا۔ اس کی غذائی صلاحیت کا علم 1771ء میں ہوا اور اسی سال اسے گنے کے طور پر فراس بجھوایا گیا تا کہ اسے قحط کے دنوں میں گندم کی بجائے استعمال کیا جا سکے۔

آرلینڈ کے تارین دن 1719ء میں اپنے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ لے گئے ۔ آلو کی کاشت برصغیر میں سترہویں صدی عیسوی میں شروع کی گئی ۔ جبکہ عیسائی مشنریوں کے ذریعے انیسویں صدی میں آلومشرقی افریقہ میں متعارف کرایا۔ اتنی عام

ہے کہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی فصلات میں آلوسر فہرست ہے۔

آلو کی غذائی اہمیت

آلو کی غذائی اہمیت دیگر تمام سبزیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ آلو میں پایا جانے والا سب سے بڑا جزو ٹار“ ہے۔ اس اعلی درجہ کی صلاحیت رکھنے والی پروٹین کی مقدار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں ایسے نمکیات پائے جاتے ہیں جو الگی والے ہوتے ہیں۔ یہ سوڈا پوٹاش وٹامن اے اور وٹامن بی کا اچھا ذرایہ ہیں۔

آلو کی غذائی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکڑ ہڈیڈ جوڈنمارک کے چیف ہیلتھ آفیسر ہیں زندگی بھر آ لور تجربے ہی کرتے رہے ہیں۔ آخر وہی ثابت کرنے میں

کامیاب ہو ہی گئے کہ آلو میں نہایت مقوی اجزاء پائے جاتے ہیں کہ انسان صرف آلو کھا کر تندرست و توانا رہ سکتا ہے۔ آلو کھانے والے انسان میں ہر وہ خوب موجود ہوتی ہے جو دوسری اچھی سے اچھی غذا استعمال کرنے والے حق میں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں ڈنمارک کے اس چیف ہیلتھ آفیسر کے مشورے سے حکومت نے اپنے استعال کا سارا گوشت حکومت جرمنی کو فروخت کر دیا اور اپنی عوام کو بطور غذا استعمال کرنے کے لئے آلو پرلگالیا۔

اس انوکھے تجربہ سے ڈنمارک کے عوام کی طاقت صحت عقل و دانش پر کوئی برا اثر مرتب نہ ہوا۔ اس کامیاب تجربے کے بعد ڈنمارک کے عوام نے ڈاکٹر ہنڈیڈک ڈاکٹر پوٹیٹو‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ ان کا نام اتنا مشہور ہوا کہ بچے بچے کی زبان پر چڑھ گیا۔ یھی ایک حقیقت ہے کہ 1912ء سے پہلے کی سائنس دان یاڈاکٹر

نے پہ نہیں لگایا تھا کہ آلو بھی بہترین غذا کا کام دے سکتے ہیں۔ کام ڈاکٹر ہنڈریڈ اور ان کے ایک دوست نے جنوری 1912ء میں تجربہ کر کے ثابت کر دیا کہ آلو کھانے سے انسان کی صحت طاقت پر کوئی براث مرتب نہیں ہوتا۔

الوصرف عمدہ غذا ہی نہیں بلکہ بہترین دوا بھی ہے۔ اس کے استعمال سے یورک ایسڈ کی تیزی میں کمی آ جاتی ہے۔ بطور غذا استعمال کرنے کے لئے جس پانی میں آلو ابالے جا نہیں وہ پانی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس پانی میں زیادہ مقدار میں وٹامن اور کھار ہوتے ہیں ۔ دوسری بار بھی اسی پانی میں آلو با لیں۔ اگر لودھوکر صاف کر کے بالے جائیں تو اس پانی کو بطور سوپ استعال کر لینا چاہئے ۔ آلوکو چھلکے سمیت ابال کر چھلکے سمیت کھا لینا چاہئے۔ اس طرح کرنے سے آپ صرف آلو کے تمام غذائی فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے بیانوں سے چھٹے ہوئے فضلے کو بھی خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ .

چھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آلو دیر سے ہضم ہونے اور ریاح پیدا کرنے والی سبزی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے کیونکہ لو جلد ہضم ہونے والی شے ہے۔ اس میں قدرتی کھاربھی پائے جاتے ہیں ۔ اسی لئے اس کے استعمال

سے کم میں پیدا ہونے والی کھٹائی اور یورک ایسڈ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ ریاح پیدا نہیں کرتا بلکہ ریاح کو دور کرتا ہے۔ ریاح خواہ کی قسم کی ہووہ ختم ہو جاتی ہے۔

آلو کے ساتھ مختلف سبزیاں جیسے کا ہو وغیرہ کا ساگ چتند شاف کرلئے ٹماء مولی پالک، بیگن وغیرہ استعمال کی جاسکتی و البته آلو کے ساتھ چاول استعمال نہیں کرنے یا نہیں۔ ایسا کرنے سے غذا میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور ایسے اجزاء پیدا ہو جاتے ہیں جوحت مند بنانے کی بجائے بیماری پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔

بازار کا دودھ پینے والے بچوں کو جب سنگترہ کا ری میسر نہ ہورہا ہو تو انہیں آلو کا سوپ دیا جاسکتا ہے۔ ذرا بڑے بچوں کو بھول میں بھون کر لوكلاتے رہنے سے ان کی نشوونما خوب ہوئی ہے۔

قدرتی فائدے اور شفابخش اجزاء:

ولی آلو میں بہت زیادہ بی خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ اس کی غذا ہے جس میں دوسری غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ اسکی ( کھار) کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیسم میں الهی (

کھار)

کو جمع کئے دیتی ہے۔ تیزابیت کو بڑھنے نہیں دیتی۔ چونے اور یورک ایسڈ کومل کر کے خارج کرتی ہے۔ آلو ایک مفید غذا ہے جو انتڑیوں میں غذائی مراصل میر (انزائنر کے ذریعے مرکب مادوں کو الگ کرنا )

میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اعضائے ہضم میں دوست بیکٹیریا کی نشوونما میں معاونت کرتی ہے۔ و فربہ اندام لوگوں کو آلوم کم استعال کرنا چاہئے کیونکہ آلو کے استعمال سے موٹاپا بڑھ جاتا ہے۔

جولوگ جنسی امراض کا شکار ہوں ان کو آلوسے پرہیز کرنا چاہئے ۔ آلو میں پایا جانے والا الکلائیڈ ٹالسن سولانین کا اثر جنسی اعضاء کے اعصاب پر اچھا مرتب نہیں ہوتا ۔ سبز رنگ کے آلو میں سولانین زہر ہوتا ہے۔ اگر بنز آلو کو گوشت کے ساتھ پکایا جائے تو سولانین زہر کی شدت بڑھ جانا ہے۔ گوشت ضم نہ ہونے اور یورک ایسڈ کی موجودگی میں جنسی اعضاء میں خراش پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔

آلوایک ایسی غذائی چیز ہے جو کئی بیماریوں کا کامیاب علاج خیال کی جاتی ہے جیسے گردے کی پتھری انتڑیوں میں زہریلا پن مرض استسقاء پرانی قبض اور یورک ایسڈ سے پیدا ہونے والی پیاریاں وغیرہ۔ اگر آلو پرمشتمل غذا کو لمبے عرصہ تک استعمال کیا جاتا رہے تو بہتر تو نکلتا ہے۔

لم آلوسكردی کے مرض کا عمره علاج بالغذا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپ میں سردی کے مرض میں کمی کا سبب آلو کا زیادہ استعمال ہے جن دنوں آلوکی صل اچھی نہ ہو یا تباہ ہو جائے۔ ان دنوں سردی کا مرض بڑھ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آلوم میں ایسے اجزاء موجود ہیں جو گردی کے مرض کا خاتمہ کرتے ہیں۔ یورپ کے معا آلوی کریم بچوں میں سکروی کے علاج کے لئے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ معدودے معانی اس مرض میں صرف آلوا ملیدہ استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔

م. تازه آلو کو کدوکش کر کے چھوڑ کر جوں نکالیں۔ اس جوں کے دو چمچ کھانا کھانے سے پیشتر پی لینے سے جسم میں موجود یورک ایسڈ ختم ہو جاتا ہے جو گنٹھیا کے مرض کی شدت کم کرتا ہے۔ انگلینڈ کے دیہات میں رہنے والے باشندے

آج بھی آلو اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان دیہاتوں کا یہ خیال ہے کہ جیب میں موجود لوازخوردم سے تیزابیت جذب کر لیتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد پرانے آلوکوۓ آلوے بدل لیتے ہیں۔ و آلو کے چھلکے میں اہم معدنی نمک پاۓ جاتے ہیں۔ اگر چلے کو ابال کر پانی چھان کر گنٹھیا کا مریض پیار ہے تو اس کے جسم کی تیزابیت کم ہونے سے گنٹھیا کا مرض ختم ہوجاتا ہے۔ لم رخ آلو کا جوس معدے کے السر کا عمدہ علاج ہے اور کچے آلو کا جو معدے

اور انتڑیوں کی بے قاعدگیوں میں استعمال کرتے رہنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آلو کا جو معدے کے ورم کو بھی ٹھیک کر دیتا ہے۔ اس مقصد کے لئے آدھا کپ جوں دن میں تین بار کھانا کھانے سے تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے پینا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آلو کانشاسته غذائی نالیوں کے امراض اور زہریلے پن کی وجہ سے ہونے والی سوجن کو ختم کرتا ہے۔ وی کے آلو کا جوں جلد کے داغ دھبے دور کرنے کی آزمودہ رواہے۔ اس کی تاثیر صفی ہے

جس کی وجہ پوٹاشیم سلفر فاسفورس اور ۰ کلورین ہے۔ جو آلو کے جوں میں پائی جاتی ہے۔ جوں کی بیتا شیر اس وقت تک قائم رہتی ہے جب یہ جلی حالت میں رہتا ہے۔ جی اے)

پر پایا جاتا ہے اس کی تاثیر ہوجال ہے۔ کیونکہ اس کے نامیال جوہرآ ک پلرم ہونے سے غیر نامیان جوہروں میں بدل جاتے ہیں۔ ان میں وہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ ال عمر زیادہ ہو جانے کے باعث چہرے اور جسم پر داغ دھبے پڑ جاتے ہیں اور جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ اگر کچے آلوکو پل کریں دار گودے کوپینی بنا کر جلد پر لگائیں تو جھریاں اور داغ د ے صاف ہوجاتے ہیں۔

جسم کے جھریوں اور داغ دھے والے حصوں پر آلوورات کو سونے سے پہلے گرنے سے بھی جھریاں ختم ہو جاتی ہیں جلد گھر آتی ہے۔ دھبے صاف ہوجاتے ہیں۔ سے یورپ کے ایک نامور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ آل کو بطور غذا مسلسل کئی ماہ تک جاری رکھا جائے تو گردے کی پتھری خودبخو ٹوٹ کر نکل جاتی ہے۔ و آلوایکی عمدہ غذا ہے جو داگی قبض جگر کے نقائش در درت جلودھر انتڑیوں کی سڑاند اور درد گردہ کے امراض میں بہت سی مفید ہے۔ بشرطیکہ صرف آلوکو غذا کے طور پرکئی ماہ تک استعمال کیا جائے۔ اسی طرح صرف آلو کی خوراک پتھری کو بہت جلدکم کر دیتی

ہے۔ بشرطیکہ اس کے ساتھ تین چار سیر پانی روزانہ پیا جائے۔ علم کے آلو کے گودے میں انزائن وٹامن کی اور قدرتی نشاستے کے ساتھ کر جلد کو ایسی غذا مہیا کرتے ہیں جو جلد کے تمام خلیوں کو تندرست بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ آلوکی الکان والی رطوبتیں جراثم ش غل سرانجام دیتے ہوئے انسانی جلد کو جواں سال بنانے میں مدددیتی ہے۔ اگر جلد انحطاط کا شکار ہورہی ہو تو آلو کے تیزابی مادے سے جل جاتی ہے۔

کچے آلو کا  جوس اتنا ابالیں کہ اس کا پانچواں حصہ بخارات بن کر اڑ جائے۔ باقی مانده جوں میں تھوڑی سی گلیسرین ملا کر بیرونی طور پر لگانے سے سوجن جوڑوں اور پتوں کی بے قاعدگی کی حالت میں سدھار آ جاتا ہے۔ زیادہ بہتر نتیجه حاصل کرنے کے لئے متاثرہ حصے کو سینک کر کے جوں کو ماش کی دوا کے طور پر لگا میں ہر تین گھنٹے بعد ماش کرتے رہنے سے درد اور سوجن سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔ جوں میں گلیسرین اس وجہ سے شامل کی جاتی ہے کہ جوں محفوظ ہو جائے اور جلد خراب نہ ہو

admin

Published by
admin

Recent Posts

Watch Live ODI Match Bangladesh Vs Zimbabwe 2022

Drink to the sanctioned Afghanistan Vs Ireland app. This app is free of announcements, bringing…

2 months ago

Get Password And Use Free WI-FI apkisapk

The Wifi Hunt is over! We ’ve each been there you ’re in a rush…

2 months ago

Top Whatsapp Trackers App 2022

WASTAT- WHATSAPP Shamus APPWaStat can★ show online last seen time★ display all time intervals in…

2 months ago

CashWall Pro – earning app earn money 2021

Earning apps CashWall Pro is the earning app earn plutocrat 2021, where you can win…

9 months ago

BFast BFree – Earn BTC

* BE ADVISED It takes a long time to earn enough Points to cash out…

9 months ago

Cointiply – Earn Real Bitcoin

It's not difficult to begin acquiring with Cointiply! More than 20 different ways to acquire…

9 months ago